ؒؒواشنگٹن 27اکتوبر (آئی این ایس انڈیا) ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی ہفتے کی رات ہونے والے امریکی فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہوگیا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اتوار کی صبح ایک رپورٹ میں امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اتوار کو واقعے سے متعلق باضابطہ بیان جاری کریں گے۔ہفتے کی شام سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہاتھا کہ کچھ دیر پہلے بہت بڑا واقعہ پیش آیا ہے۔امریکی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے شرط پر یہ اطلاع دی تاہم انہوں نے آپریشن سے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں۔خبر رساں ادارے نے ایک امریکی جریدے ’نیوزویک‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ کارروائی شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں کی گئی۔’نیوز ویک‘ کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاعات پر خصوصی فورسز کے ذریعے کی گئی۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان ہوگن گڈلے نے ہفتے کو رات گئے بتایا کہ صدر ٹرمپ اتوار کو امریکی وقت کے مطابق صبح 9 بجے ایک اہم بیان جاری کریں گے۔تاہم ترجمان نے اس حوالے سے مزید کچھ نہیں بتایا۔دوسری جانب فرانس کی خبر ایجنسی اے ایف پی نے اپنی ایک رپورٹ میں بعض میڈیا اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ امریکی خصوصی آپریشن دستوں کے اترتے ہی بغدادی نے خودکش حملے میں خود کو ہلاک کرلیا ہو۔اے ایف پی کا کہنا ہے کہ ابوبکر البغدادی کے مارے جانے سے متعلق ماضی میں بھی متعدد بار اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔رپورٹ میں اے بی سی نیوز کے حکام کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ موت کی بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے تصدیق کی جارہی ہے۔امریکہ نے ابو بکر البغدادی کے سر کی قیمت ڈھائی کروڑ ڈالر مقرر کی تھی۔ابو بکر البغدادی کا اصل نام ابراہیم اوواد ابراہیم البدری ہے وہ 1971میں عراق میں پیدا ہوئے۔ 2013 میں عراق اور شام میں داعش کی بنیاد رکھی تھی۔داعش ماضی میں عراق اور شام میں ہونے والی مختلف پر تشدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔2014 میں اس نے دنیا بھر میں خلافت کا اعلان کیا تھااور ابو بکر بغدادی کو اس کا خلیفہ قرار دیا تھا۔داعش کو امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا۔